Aqeem-us-Salaat

 

خلیفہ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ اگر کوئی کتا نیل کے ساحل پے بھوک سے مر جاتا ہے تو اللہ کے سامنے عمر جوابدہ ہو گا! جانوروں کا کیسا عمدہ خیال،کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک اسلامی فلاح و بہبود کی ریاست کے حکمران پر انسانوں کی دیکھ بھال کی کیا مثال ہوگی . اسلام کسی کو کسی بھی بینک میں اپنا مال جمع کرنے کی اجازت نہیں دیتا.

وۡرَةُ الهُمَزة

ٱلَّذِى جَمَعَ مَالاً۬ وَعَدَّدَهُ ۥ (٢) يَحۡسَبُ أَنَّ مَالَهُ ۥۤ أَخۡلَدَهُ ۥ (٣) كَلَّا‌ۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلۡحُطَمَةِ (٤) وَمَآ أَدۡرَٮٰكَ مَا ٱلۡحُطَمَةُ (٥) نَارُ ٱللَّهِ ٱلۡمُوقَدَةُ (٦) ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلۡأَفۡـِٔدَةِ (٧) إِنَّہَا عَلَيۡہِم مُّؤۡصَدَةٌ۬ (٨) فِى عَمَدٍ۬ مُّمَدَّدَةِۭ (٩)

جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے (۲) (اور) خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہو گا (۳) ہر گز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا (۴) اور تم کیا سمجھے حطمہ کیا ہے؟ (۵) وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے (۶) جو دلوں پر جا لپٹے گی (۷) (اور) وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے (۸) (یعنی آگ کے) لمبے لمبے ستونوں میں (۹)

وۡرَةُ لهب / المَسَد

مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُ مَالُهُ ۥ وَمَا ڪَسَبَ (٢) سَيَصۡلَىٰ نَارً۬ا ذَاتَ لَهَبٍ۬ (٣)نہ تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا (۲) وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو گا (۳)

سُوۡرَةُ المَاعون

أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ (١) فَذَٲلِكَ ٱلَّذِى يَدُعُّ ٱلۡيَتِيمَ (٢) وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ (٣) فَوَيۡلٌ۬ لِّلۡمُصَلِّينَ (٤) ٱلَّذِينَ هُمۡ عَن صَلَاتِہِمۡ سَاهُونَ (٥) ٱلَّذِينَ هُمۡ يُرَآءُونَ (٦) وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ (٧)

بھلا تم نے اس شخص (منافق) کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ (۱) یہ وہی (بدبخت) ہے، جو یتیم کو دھکے دیتا ہے (۲) اور فقیر کو کھانا کھلانے کے لیے( لوگوں کو) ترغیب نہیں دیتا (۳) تو ایسے نمازیوں کی خرابی ہے (۴) جو نماز جو نمازقاہًم طرف سے غافل رہتے ہیں (۵) جو ریا کاری کرتے ہیں (۶) اور برتنے کی چیزیں عاریتہً نہیں دیتے (۷)

اسلام نے تمام انسانوں کے لئے احترام کی زندگی اورقابلِ احترام روزی روٹی کے مواقع فراہم کیے ہیں. ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی تمام بچت کو فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے نہ کہ مال جمع کریں

بینکنگ سسٹم اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے، یہاں تک کہ اسلامی بینک اسلام کی روح کی پیروی نہیں ہیں اور جس طرح شراب گھر کا نام اسلامی شراب گھر کا نام دینے سے حلال نہیں ہو جاتا۔

اسلام نے بچت اکاؤنٹ اور بینکنگ کے نظام کی حوصلہ شکنی کی ہے جس میں سود شامل ہے، اللہ نے سود کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے. اسلامی ریاست افراد کے اجتماعی کام کاج کے بدلے میں سب کے لئے کھانا اور پناہ گاہ کی ذمہ دار ہے. اگر کوئی معذور یا بیمار ہو یا کام نہیں کرسکتا، یا ملازمت سے فارغ ہے، ریاست اس کے اور اس کے خاندان کے لئے بھی ذمہ دار ہوگی.

Poetry By Zahid Ikram https://www.facebook.com/BehreBekraan

Back to Index Page