Short Messages
By Zahid Ikram

facebook.com/Zahid.Ikram.Official/

قیامت آپ سے کتنی دور ہے؟


ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ پاک نے تمام روحوں کو یوم الست کو پیدا فرمایا تھا وقتِ الَست ایک اہم عہد لیا تھا کہ اَلستَ بِربکم.. (کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟).. ہم نے اپنی مرضی اور اختیار سے یہ اقرار کیا تھا کہ بے شک ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہی ہمارے رب ہیں.. تب خدا نے فرمایا تھا کہ اس بات کو بھول نہ جانا کہ روزِ قیامت کہنے لگو کہ ہم کو تو اسکی خبر ہی نہیں..!
بھول جانا ہماری خصلت ہے.. یہ کبھی ہمارے لیے انعام ثابت ہوتی ہے تو
کبھی امتحان.. دارِ دنیا میں یہی ہمارا امتحان ہے کہ ہم عہدِ الست کے لمحے کو بھلا چکے ہیں، بالکل ویسے جیسے ہمارے ماضی کے کئی واقعات ہمارے ذہن سے غیر ارادی طور پر محو ہو گئے ہیں۔

کیا کوئی بھی انسان اپنی پیدائش کو زہن میں لا سکتا ہے؟ یا پیدا ہونے کے بعد کے پہلے پانچ یا چھ مہینوں کا احوال بتا سکتا ہے؟ یقینا ہم سب بھول چکے ہیں! تو یوم الست کا عہد ہم کیسے زہن میں لا سکتے ہیں؟ ہم عہدِ الست کے لمحے کو بھلا چکے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے ماضی کے کئی واقعات ہمارے ذہن سے غیر ارادی طور پر محو ہو گئے ہیں.. لیکن فطرت سلیم رہے تو ہمارا ضمیر ہمیں ہمیشہ یاد دلاتا رہتا ہے کہ "خبردار! دیکھو تم عہد کی پاسداری نہیں کر رہے، یہیں رک جاؤ.." کہئے! یاد دلاتا ہے یا نہیں؟

ہمیں تو پیدائش سے پہلے کا کوئی لمحہ بھی یاد نہیں کجا ہم یہ خیال کر سکیں کہ یوم الست کو گزرے کتنا وقت ہو گیا ہے؟ جیسا کہ ہمیں کماحقہ احساس اور حقیقی ادراک نہیں ہو پا رہا کہ عہدِ الست سے لے کر زمین پر پیدا ہونےتک کتنا وقت اور کیسے گزرا ہے؟

اسی طرح جب ہم وفات پا کر قبر میں دفنائے جائیں گے تو ہم قیامت کی گھڑی آنے تک کا وقفہ محسوس نہ کر پائیں گے
قیامت آپ سے کتنی دور ہے؟قرآنِ پاک میں سورۃ یٰسین میں ارشادِباری تعالیٰ ہےکہ

سُوۡرَةُ یسٓ
بِسمِ ٱللهِ ٱلرَّحمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يَنسِلُونَ (٥١) قَالُواْ يَـٰوَيۡلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرۡقَدِنَاۜ‌ۗ هَـٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحۡمَـٰنُ وَصَدَقَ ٱلۡمُرۡسَلُونَ (٥٢)

اور صور پھونکا جائے گا یہ قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف دوڑ پڑیں گے (۵۱) کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے اُٹھایا؟ یہ وہی تو ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا


جان نکلتے ہی ہماری روح عالم برزخ میں پہنچ جاتی اور جسم کو قبر میں دفنا دیا جاتا ہے یا کچھ مذاہب میں جلا دیا جاتا ہے مگر روح اپنا وجود قائم رکھتی ہے اور روح کو فرشتے سوال نامہ پیش کرتے ہیں مومن شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور اس کا دین اسلام ہے تو جنت کی کھڑکیاں کھول دی جاتی ہیں اور کافر پر دوزخ کی کھڑکیاں

سورۂ مومن (غافر) میں فرمایا :
وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَاب
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَاب

فرعون والوں کو برے عذاب نے گھیر لیا ، صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن تو فرعون والوں کے لئے کہا جائے گا ان کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔
( غافر:40 - آيت:45-46 )

میں نہ ہی کوئی مذہبی مبلغ یا کوئی سکالر ہوں اور نہ ہی عالم، میں صرف ایک طالبعلم کی حیثیت سے تحقیق پیش کر رہا ہوں۔
مہلت تمام ہونے اور سانسیں تھمنے کی دیر ہی تو ہے.. پھر "حساب کی کتاب" میں سب کہا سُنا اور کیا دھرا آنکھوں کے سامنے ہو گا.. تب یہ نہ کہنا کہ "کاش مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی... کاش دنیاوی موت ہی میرے لیے فیصلہ کُن ہوتی... وائے ناکامی، آج یہاں کوئی کسی کا یار اور غمگسار نہیں ہے."

قیامت آپ سے صرف اتنی ہی دور ہے جتنا کہ آپ سےآپکی موت۔۔۔

End of Times! How Close are we?

Doomsday is on its way!
In this article you will find near future possibilities of earth, solar and Universal destruction and how the doomsday event will took place.

Man is made of haste. I shall show you My portents, but ask Me not to hasten. (37) And they say: When will this promise (be fulfilled), if ye are truthful? (38) If those who disbelieved but knew the time when they will not be able to drive off the fire from their faces and from their backs, and they will not be helped! (39) Nay, but it will come upon them unawares so that it will stupefy them, and they will be unable to repel it, neither will they be reprieved. (40) [Al-Anbiya 21:37-40]


انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو (۳۷) اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟ (۳۸) اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا (۳۹) بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آ واقع ہوگی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی (۴۰)

Find Now!

 

Poetry By Zahid Ikram https://www.facebook.com/BehreBekraan

More Short Messages

Back to Index Page